مورخہ 21 مارچ 2023 " دور حاضر میں نظام زکوٰۃ کی اہمیت و افادیت " کے موضوع پر سروسز انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے آڈیٹوریم میں کانفرنس منعقد کی گئی جس کی صدارت بیرسٹر سید اظفر علی ناصر وزیر زکوٰۃ و عشر پنجاب،جناب ڈاکٹر جاوید اکرم وزیر سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن اور جناب منصور قادر وزیر برائے ہائر ایجوکیشن/سکول ایجوکیشن نے کی۔ جس میں جناب میاں ابرار احمد سیکرٹری زکوٰۃ و عشر، ڈاکٹر شہلا اکرم، مولانا محمد یوسف خاں، مولانا راغب حسین نعیمی، علامہ زبیر احمد ظہیر،مفتی محمد رمضان سیالوی نے بھی شرکت کی۔ وزیر زکوٰۃ و عشر نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہ نظام زکوٰۃ کو اسلام کے معاشی نظام میں کلیدی حیثیت حاصل ہے۔ حضور ﷺ نے اپنی حیات طیبہ میں زکوٰۃ کی وصولی اور تقسیم کا ایک منظم نظام قائم کیا اور بعد ازاں خلفاء راشدین نے اس نظام کو مزید مستحکم کیا اور وسعت دی۔ حتیٰ کہ زکوٰۃ ادا نہ کرنے والوں سے جہاد کیا۔ نظام زکوٰۃ کا قیام اسلامی ریاست کی بنیادی ذمہ داریوں میں سے ایک ذمہ داری ہے۔انہوں نے نظام زکوٰۃ و عشر کو مزید فعال اور مضبوط بنانے کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں دیگر اسلامی ممالک میں زکوٰ ۃ و عشر کے نظام کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ اس موضوع پر ریسرچ کی اشد ضرورت ہے۔تا کہ اس ضمن میں ہم دیگر اسلامی ممالک کے تجربات سے مستفید ہو سکیں۔ ڈاکٹر جاوید اکرم صوبائی وزیر برائے سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن نے کانفرنس کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے معاشرتی اور معاشی نا ہمواریوں کے خاتمے کے لئے نظام زکوٰۃ کی اہمیت و افادیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے ارتکاز دولت اور اس کی غیر منصفانہ تقسیم کو غربت کی بڑی وجہ قرار دیا۔انہوں نے محکمہ زکوٰۃ و عشر کی طرف سے صوبائی، ضلعی اور تحصیل کی سطح پر ہیلتھ ویلفیئر کمیٹیز کے ذریعے مستحق زکوٰۃ مریضوں کے مفت علاج و معالجہ کے لئے فنڈز کی فراہمی کو خوش آئند قرار دیا۔جناب منصور قادر وزیر برائے ہائر ایجوکیشن/سکول ایجوکیشن نے زکوٰۃ و عشر کی اہمیت اور افادیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ نظام زکوٰۃ کے ذریعے پسماندہ اور محروم طبقات کی زندگیوں میں خاطر خواہ بہتری لائی جا سکتی ہے۔ انہوں نے محکمہ کی طرف سے مستحق طلباء و طالبات کو عصری و دینی تعلیم اور فنی تربیت کے لئے وظائف کے اجراء کے عمل کی تعریف کی۔ سکریٹری زکوٰۃ و عشر پنجاب نے اپنے خطاب میں محکمہ زکوٰۃ و عشر کی طرف سے مستحقین کو مختلف پروگرامز کے تحت دی جانے والی مالی امداد، زکوٰۃ کی منصفانہ اور شفاف طریقے سے تقسیم کو یقینی بنانے کے لئے ٹیکنالوجی کا استعمال اور عوام الناس میں زکوٰۃ و عشر سے متعلق الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا کے ذریعے آگہی پیدا کرنے کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کانفرنس کے شرکاء کو آگاہ کیا کہ گزشتہ مالی سال کے دوران محکمہ زکوٰۃوعشر پنجاب مستحقین زکوٰۃ کو گزارہ الاؤنس، علاج معالجہ، عصری دینی اور فنی تعلیم کے لیے امداد فراہم کرتا ہے۔ گزشتہ مالی سال کے دوران زکوٰۃ فنڈ سے 3 ارب 86 کروڑ روپے سے زائد رقم تقریباََ2 لاکھ 45 ہزار مستحقین پر خرچ کی گئی۔ جبکہ اس سال وفاقی حکومت سے زکوٰۃ کی وصولی زیادہ ہونے کی بنا پر صوبہ پنجاب کو تقریباََ5 ارب 77 کروڑ روپے کی رقم موصول ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ زکوٰۃ فنڈز کا اجراء جلد ہی کر دیا جائے گا اور اس کی شفاف تقسیم کے عمل کو یقینی بنایا جائے گا۔اس موقع پر کانفرنس میں شامل علمائے کرام و سکالرز نے دور حاضر میں نظام زکوٰۃ کی اہمیت و افادیت پر تفصیلی روشنی ڈالی اور آخر میں زکوٰۃو عشر سے متعلق شرکاء کے سوالات کے قرآن و سنت کی روشنی میں مدلل جوابات دئے۔






