سب سے پہلے میں اللہ تعالیٰ کا شکر گزار ہوں کے اُس نے مجھے عوامی خدمت کا موقع فراہم کیا۔ میں وزیر اعلی کا شکر گزار ہوں جنہوں نے مجھے وزارت زکوٰۃ و عشر کیلئے نامزد کیا۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین میں واضح طور پر تحریر ہے کہ پاکستان کے مسلمان اپنی زندگیوں کو اسلامی اصولوں کے مطابق گزارنے کے مکمل طور پر حقدار ہوں گے۔ زکوٰۃ اسلام کے بنیادی ارکان میں سے ایک ہے اور اس کا بنیادی مقصد اُن غریب لوگوں کی مدد کرنا ہے جو شریعت کے مطابق زکوٰۃ لینے کے حقدار ہیں۔ تمام صاحبِ نصاب مسلمانوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ نہ صرف خود زکوٰۃ ادا کریں بلکہ زکوٰۃ اکٹھا کرنے کا مناسب بندوبست بھی کریں تاکہ ضرورت مند لوگوں تک اُن کا حق پہنچایا جا سکے۔ حالانکہ زکوٰۃ و عشر کے نظام کا آغاز 1980ء میں ہوا تاہم پھر بھی غریب اور نادرار لوگوں کی اعانت کیلئے اسے مزید مؤثر اور جامع بنانے کی ضرورت ہے۔ موجودہ حکومت اس تناظر میں بغیر کسی خوف و طرفداری عوامی خدمات کا واضح ایجنڈا رکھتی ہے۔ زکوٰۃ و عشر بنیادی سماجی تحفظ کا ایک مربوط ذریعہ ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ تمام سٹیک ہولڈرز کو ساتھ لے کر سماجی تحفظ کے تمام نیٹ ورکس کو مزید ہم آہنگ اورمربوط کیا جائے۔ موجودہ حکومت اصلاحات متعارف کرانے کے علاوہ، غربت کے خاتمے کے موجودہ اقدامات کے جائزے اور انہیں غربت کی تشخیص کے ایجنڈے کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کیلئے پرعزم ہے۔
وزیرِ زکوۃ و عشر
