پنجا ب ووکیشنل ٹریننگ کونسل
پنجاب ووکیشنل ٹریننگ کونسل (پی وی ٹی سی) کا قیام حکومت پنجاب کی جانب سے اکتوب 1998ء کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کی بنیادپر عمل میں لایا گیا۔ پی وی ٹی سی غربت کے خاتمہ کیلئے زکوٰۃ فنڈزکو”سیکھنے پر وظیفہ“کے اُصول کے تحت استعمال کرتے ہوئے مستحق نوجوانوں بالخصوص مستحقینِ زکوٰۃ کو اُن کے گھر کی دہلیزپر مطلوبہ مہارتوں کی تربیت فراہم کرنے کے علاوہ ملازمتوں میں اضافے کیلئے نہ صرف نجی شعبہ کی شمولیت ممکن بنا رہا ہے بلکہ مستقل روزگار کے تعین کیلئے گریجویٹس کی راہنمائی اوراُنہیں ذاتی کاروبار کے آغازکے مواقع فراہم کرنے کیلئے چھوٹے مالیاتی اداروں اور این جی اوز سے مالی امداد کے حصول کا بندوبست بھی کر رہا ہے۔
پی وی ٹی سی پوری مسلم دنیا میں اپنی نوعیت کا ایک منفرد ادارہ ہے جو 1998ء کے وزیر اعلیٰ پنجاب کے ویژن کے تحت زکوٰۃ کی رقم کو مہارتوں اور معیشت کی بہتری کیلئے استعمال کر رہا ہے۔ معاشرے کے غریب نوجوانوں کی مستقل بحالی کیلئے ووکیشنل ٹریننگ کے مؤثر ماڈل کی حمایت زکوٰۃ فنڈکے بہترین مصرف میں مشعل راہ کی حیثیت رکھتی ہے۔
ای ای اے، یو ایس ایڈ اور آئی وائے ایف کی کیس سٹڈی کے مطابق پی وی ٹی سی مالی وسائل کی کمی کے شکارنوجوان لڑکے لڑکیوں کی ووکیشنل /ٹیکنیکل ٹریننگ کے ذریعے ملازمتوں کے قابل ذکرمواقع پیدا کر رہا ہے۔
پی وی ٹی سی،جی آئی زیڈ، پی ایس ڈی ایف، یونیسف، جائیکا، برٹش کونسل اور دیگر قومی و بین الاقوامی اداروں کی اشتراک سے مہارتوں کی تربیت کے ذریعے غربت کے خاتمے میں اپنا بھر پور کردار ادا کر رہا ہے۔پی وی ٹی سی نے چیف منسٹر پنجاب کے ویژن کے تحت جون 2018ء تک 480,000 افراد کی تربیت کا بیڑا اُٹھایا۔
ٹریننگ اینڈ اسیسمنٹ (ٹی این اے) کے ذریعے تحصیل کی سطح پر کئے جانے والے ایک آبادیاتی سروے کے انعقاد کے بعد مارکیٹ کی ڈیمانڈ کے مطابق جدید رجحانات کو دیکھتے ہوئے، پی وی ٹی سی نے مختلف شعبہ جات پر مبنی 81 قسم کا نصاب ترتیب دیا ہے جو صنعت، زراعت، صحت اور خدمات کے سیکٹر میں انتہائی معاون ثابت ہوگا۔ تربیت حاصل کرنے والے ہر طالب علم کی ریگولر ووکیشنل سٹڈی اور پریکٹیکل ورک کے حصہ کے طور پر لائف سکل اینڈ سوشل انٹر پینیورشپ کورسز لازمی ہیں۔
پنجاب بھر میں ان مہارتوں کی تربیت خالی /کم استعمال ہونے والی سرکاری عمارات کے اندر قائم کئے جانے والے 284 ووکیشنل ٹریننگ انسٹیٹیوٹس (وی ٹی آئیز) میں سالانہ 89,000 تربیتی گنجائش کیساتھ دی جا رہی ہے۔ پی وی ٹی سی مرد و خواتین کی49:51 شرح کے ساتھ نہ صرف صنفی مساوات کو برقراررکھے ہوئے ہے بلکہ اس میں مزید اضافے پر بھی کاربند ہے۔ اب تک تقریباً 686,720 ٹرینیز پی وی ٹی سی سے کامیابی کیساتھ گریجویٹ ہو چکے ہیں اور اِن میں سے 74 فیصد صاحب روزگار ہیں یا پھر اپنا کاروبار کر رہے ہیں۔ پی وی ٹی سی پاک فوج کے اشتراک سے فوجی نوجوانوں کی مہارتی تربیت کے ذریعے شدت پسندی کے تدارک کیلئے سوات میں ایک ووکیشنل ٹریننگ انسٹیٹیوٹ قائم کرچکی ہے اور اس کے علاوہ شمالی وزیرستان ایجنسی کے آئی ڈی پیز کو پیشہ ورانہ تربیت فراہم کرنے کا بھی ارادہ رکھتی ہے-
پی وی ٹی سی اپنے ٹرینیز کی فنی تربیت کے ساتھ ساتھ اُن کی مہارتوں میں اضافے کی تربیت کیلئے سٹیٹ آف دی آرٹ سٹاف اور ٹیچر ٹریننگ انسٹیٹیوٹس (ایس ٹی ٹی آئی)کاحامل ہے۔
پی وی ٹی سی اپنے ووکیشنل ٹریننگ انسٹیٹیوٹس کو خود مختار بورڈز کے با صلاحیت ایمپلائز کے ذریعے چلا رہی ہے۔ پی وی ٹی سی امتحانات کے انعقاد اورٹریننگ کے اختتام پر سرٹیفکیٹس /ڈپلومے جاری کرنے کیلئے پی وی ٹی سی ایکٹ 1998ء کے تحت مجاز ہے۔ ہر ٹرینی کیلئے لازم ہے کہ وہ نصاب کے مطابق دو ماہ دوران ملازمت (آن دی جاب ٹریننگ) (او جے ٹی) تربیت حاصل کرے۔
